چنتامنی:13 /مارچ(محمد اسلم/ایس او نیوز)قدرت نے عورت اور مرد کے جس نظام کو تشکیل دیا ہے وہ نظام ایک دوسرے کے بنا ادھور ہے یہ اس دنیا کے نظام کو چلانے کی ذمہ داری صرف مرد کی نہیں بلکہ عورت کی بھی ہے مرد حاکم بن کر حکمرانی کرے گا اور عورت مرد کی خدمت اور گھر کا نظام چلائے گی اس طرح اس دنیا کا نظام لاکھوں کروڑوں سالوں سے چلا آرہا ہے لیکن چند مفاد پرست انسان قدرت کے اس بہترین نظام کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کررہے ہیں در اصل قدرت نے مرد کو عورت کا محافظ بنایا تھا لیکن مرد محافظ بننے کی بجائے حاکم بن بیٹھا ہے مرد کی اسی سوچ نے آج خواتین کو سماج سے الگ کر رکھا ہے خواتین پر تشدد اورمظالم کسی ایک مخصوص ملک کا نہیں بلکہ کے دنیا بیشتر ممالک نیز ترقی یافتہ ممالک کے لئے بھی سنگین مسئلہ ہیں ان پر قابو پانے کیلئے صرف قانون بنادینا یا ایوانوں میں بل کو منظوری دے دینا کافی نہیں ہے بلکہ اس قانونی اگاہی اور نفاذ لازم ہے ان باتوں کااظہار خیال کرناٹکا واچنا ساہتیہ پریشد کے ریاستی صدر ایم۔وی۔تیگ راج نے کیا ۔
یہاں کے دی ۔پریتی پبلیک اسکول کے احاطے منعقد یوم خواتین پروگرام کاآغاز شمع روشن کرکے کرنے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوم خواتین منانے کا مقصد خواتین کو ان کا جائز سماجی حق دلوانا ہے تاکہ وہ بھی سماج میں باعزت زندگی گزارسکیں ۔تعلقہ کنڑا سیوا سمیتی کی صدر پروفیسر اشوتھ اماّ نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اپنے بچوں کو خاص کر لڑکیوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیں ورنہ ان کی تعلیم ادھوری رہ جائے گی اور وہ تعلیم سے دور ہوکرغلط عادت سیکھ کر اپنا نام بدن نام کریں گے ۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے بہت سے پروگرام پیش کرتی ہیں تاہم ان پر عمل در آمد کے ضمن میں کوئی خاص پیش قدمی نظر نہیں آتی ہم ایک معاشرہ میں رہ رہے ہیں جس میں مرد کو زیادہ اہمیت حاصل ہے بہت سے گھروں میں عورت کو اس کے جائز حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے بہت کم سننے میں آتا ہے کہ کسی عورت کے نام پر زرعی زمین ہے یا کوئی عورت کسی گھر کی مالک ہے اور یہ گھر اس کے نام ہے ہمارے یہاں عورت کی مظلومی کی بڑی وجہ اس وسائل پر اختیار نہ ہونا ہے اس کی محرومی کی وجہ سے عورت کا مرد پر معاشی انحصار ی ہے ہندوستان کی نصف آبادی عورتو ں پر مشتمل ہے اس کے باوجود عورت ہی تعلیم سے دور ہے یہ سوچنا چاہئے کہ اگر ایک عورت پڑھے گی تو پورا خاندان سنورے گا اس حوالے سے مردوں کو اپنا نظریہ تبدیل کرنا ہوگا تب ہی حقیقی تبدیلی آئے گی ۔
اس پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے اسکول کی پرنسپال مالتی میڈم نے بھی صدارتی تقریر کی اس موقع پر مختلف خواتین جو ہر کام میں خواتین کو انصاف دلانے سامنے آتی ہے ان خواتین کی نشاندہی کرکہ انھیں تہنیت پیش کی گئی اس موقع پر حسینہ بیگم عائشہ سلطانہ تعلقہ سرکاری ملازمین اسوسی ایشن کے تعلقہ صدر بی جناردھن ریڈی آر۔وینکٹ رامنا ریڈی سمیت کئی خواتین وغیرہ موجود رہی ۔